پتور 2؍نومبر (ایس او نیوز)ہوسنگر کے بڈا گنور گرام پنچایت میں زعفرانی اور سبز جھنڈے لہرانے کا تنازعہ اس وقت نیا رخ اختیار کرگیا جب زعفرانی فرقے کے لوگوں نے ہلّہ بول کر سبز جھنڈا لہرانے کے لئے بنائے پلیٹ فارم کو توڑ ڈالا اور وہاں پر زعفرانی جھنڈا لہرادیا۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق بڈاگنور گرام پنچایت کی حدود میں سڑک کے کنارے پر کوئی ایک دہائی قبل جھنڈا لہرانے کے لئے ایک پلیٹ فارم بنایا گیا جسے کیسری کٹّے (زعفرانی پلیٹ فام )کا نام دیا گیا اور وہاں زعفرانی جھنڈا لہرایا جاتا رہا۔ کچھ دنوں پہلے یہاں سے ذرا دور مسجد جانے کے راستے پر ذاتی ملکیت والی زمین پر ایک نیا پلیٹ فارم بنایا گیا اور اس کا نام ہسیروُ کٹّے (سبز پلیٹ فارم) رکھا گیا اور وہاں پر ہرا جھنڈا لہرایا جانے لگا۔اس طرح جب دونوں فرقوں کے درمیان غلط فہمیاں بڑھنے لگیں تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پولیس اسٹیشن میں میٹنگ طلب کی گئی ۔ وہاں سے مسئلہ گرام پنچایت میں حل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ گرام پنچایت نے فیصلہ کیا کہ سبز جھنڈے والا پلیٹ فارم غیر قانونی طور پر بغیر اجازت کے تعمیر کیا گیا ہے اس لئے اسے گرادیا جائے۔اور یہ تجویز تعلقہ تحصیلدار کو بھیج دی گئی۔ مگر تحصیلدار نے اس پر کوئی اقدام نہیں کیاتوزعفرانی فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں سبز جھندے والے پلیٹ فارم کے پاس پہنچے اور اس پر زعفرانی پرچم لہرانے کے بعد پلیٹ فارم کو نقصان پہنچایا۔اس واقعے کی خبر ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور وہاں اس وقت موجود گرام پنچایت صدر کیشو گوڈا،انیل اور ہریش نامی تین لوگوں کو گرفتار کرلیا ۔ مزید 20افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس واقعہ میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران نے موقع واردا ت پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ پھر گرام پنچایت سی ای اوجگدیش ایس، اے ایس پی مسٹر رشونتھ اور گرام پنچایت ترقیاتی افیسر کی موجودگی میں کیسری اور ہسیرو دونوں پلیٹ فارم کو توڑ کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔